🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآنی آیات
قرآن پاک لفظ نُفُورًا کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر
لفظ
آیت
1
نُفُورًا
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُوا وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا [17-الإسراء:41]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ہم نے تو اس قرآن میں ہر ہر طرح بیان فرما دیا کہ لوگ سمجھ جائیں لیکن اس سے انہیں تو نفرت ہی بڑھتی ہے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں گے۔ مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس قرآن میں پھیر پھیر کر بیان کیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور وہ انھیں نفرت کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا۔
2
نُفُورًا
وَجَعَلْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ أَكِنَّةً أَنْ يَفْقَهُوهُ وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْآنِ وَحْدَهُ وَلَّوْا عَلَى أَدْبَارِهِمْ نُفُورًا [17-الإسراء:46]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ اور جب تو صرف اللہ ہی کا ذکر اس کی توحید کے ساتھ، اس قرآن میں کرتا ہے تو وه روگردانی کرتے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور ہم نے ان کے دلوں پر کئی پردے بنا دیے ہیں، (اس سے) کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ۔ اور جب تو قرآن میں اپنے رب کا، اکیلے اسی کا ذکر کرتا ہے تو وہ بدکتے ہوئے اپنی پیٹھوں پر پھر جاتے ہیں۔
3
نُفُورًا
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُورًا [25-الفرقان:60]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ان سے جب بھی کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجده کرو تو جواب دیتے ہیں رحمٰن ہے کیا؟ کیا ہم اسے سجده کریں جس کا تو ہمیں حکم دے رہا ہے اور اس (تبلیﻎ) نےان کی نفرت میں مزید اضافہ کردیا

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا؟ کیا جس کے لئے تم ہم سے کہتے ہو ہم اس کے آگے سجدہ کریں اور اس سے بدکتے ہیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جب ان سے کہا جاتا ہے رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں اور رحمان کیا چیز ہے؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو ہمیں حکم دیتا ہے اور یہ بات انھیں بدکنے میں بڑھا دیتی ہے۔
4
نُفُورًا
وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَيَكُونُنَّ أَهْدَى مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا [35-فاطر:42]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور ان کفار نے بڑی زوردار قسم کھائی تھی کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے واﻻ آئے تو وه ہر ایک امت سے زیاده ہدایت قبول کرنے والے ہوں۔ پھر جب ان کے پاس ایک پیغمبر آ پہنچے تو بس ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو ہر ایک اُمت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں۔ مگر جب ان کے پاس ہدایت کرنے والا آیا تو اس سے ان کو نفرت ہی بڑھی

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور انھوں نے اپنی پختہ قسمیں کھاتے ہو ئے اللہ کی قسم کھائی کہ واقعی اگر کوئی ڈرانے والا ان کے پاس آیا تو ضرور بالضرور وہ امتوں میں سے کسی بھی امت سے زیادہ ہدایت پانے والے ہو ں گے، پھر جب ان کے پاس ایک ڈرانے والا آیا تو اس نے ا ن کو دور بھاگنے کے سوا کچھ زیادہ نہیں کیا۔