وَ تَوَلّٰی عَنۡہُمۡ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰی عَلٰی یُوۡسُفَ وَ ابۡیَضَّتۡ عَیۡنٰہُ مِنَ الۡحُزۡنِ فَہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿۸۴﴾
پھر ان سے منہ پھیرلیا اور کہا ہائے یوسف ! (1) ان کی آنکھیں بوجہ رنج و غم کے سفید ہوچکی تھیں (2) اور وہ غم کو دبائے ہوئے تھے۔[84]
84۔ 1 یعنی اس تازہ صدمے نے یوسف ؑ کی جدائی کے قدیم صدمے کو بھی تازہ کردیا۔ 84۔ 2 یعنی آنکھوں کی سیاہی، مارے غم کے، سفیدی میں بدل گئی تھی۔