ثُمَّ کَانَ عَاقِبَۃَ الَّذِیۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓاٰۤی اَنۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ کَانُوۡا بِہَا یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
پھر آخر برا کرنے والوں کا بہت ہی برا انجام ہوا، 1 اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے۔[10]
10-1سوآی بروزن فعلی سوء سے اسوأ کی تانیث ہے ی سے حسنی احسن کی تانیث ہے۔ یعنی ان کا جو انجام ہوا، بدترین انجام تھا۔