🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة يوسف
فَاسۡتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ فَصَرَفَ عَنۡہُ کَیۡدَہُنَّ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۴﴾
تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی، پس اس سے ان (عورتوں) کا فریب ہٹا دیا۔ بے شک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔[34]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 34) {فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ …: } اس کے پروردگار نے اس کی دعا قبول کرکے ان سب عورتوں کا مکر و فریب اس سے ہٹا دیا، چنانچہ اس کے بعد کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کہ کسی عورت نے انھیں پھسلانے کی کوشش کی ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ جمال یوسفی پر ہیبت نبوت کی زرہ ڈال دی گئی، جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی دعوت دینے کی کسی عورت کو کبھی جرأت ہی نہیں ہوئی، حالانکہ ان کے حسن و جمال کا اندازہ ہی نہیں ہو سکتا۔