فَاسۡتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ فَصَرَفَ عَنۡہُ کَیۡدَہُنَّ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۴﴾
تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی، پس اس سے ان (عورتوں) کا فریب ہٹا دیا۔ بے شک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔[34]
34۔ چنانچہ اس کے پروردگار نے یوسف کی دعا قبول [34] کر لی اور عورتوں کے مکر کو یوسف سے دور رکھا بیشک وہ سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے
[34] یعنی سیدنا یوسفؑ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا عزم و استقلال بخشا کہ کسی عورت کا ان پر جادو نہ چل سکا۔