🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الحجر
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِیۡنَ ﴿۷۵﴾
بے شک اس میںگہری نظر سے دیکھنے والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔[75]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت75){اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ …: لِلْمُتَوَسِّمِيْنَ } یہ { وَسْمٌ، سِمَةٌ } سے باب تفعل کا اسم فاعل ہے۔ { وَسْمٌ} کامعنی نشان ہے، خصوصاً جوگرم لوہے کے ساتھ اونٹ یا گھوڑے پر لگایا جاتا ہے۔ {مِيْسَمٌ} گرم کرکے نشان لگانے کا آلہ۔ نشانات کو دیکھ کر بات کی تہ تک پہنچنا {تَوَسُّمٌ} کہلاتاہے، یعنی غور و فکر کرنے والوں اورگہری نظر والوں کے لیے ان بستیوں میں عبرت کے بہت سے نشان موجودہیں۔