تفسیر القرآن الکریم
سورة الشعراء
وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہُمۡ وَ مَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ ﴿۲۱۱﴾ؕ
اور نہ یہ ان کے لائق ہے اور نہ وہ یہ کر سکتے ہیں۔[211]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 211) ➊ { وَ مَا يَنْۢبَغِيْ لَهُمْ:} پہلی یہ کہ اتنا پاکیزہ کلام لے کر اترنا شیاطین کے لائق ہی نہیں، کیونکہ قرآن سراسر خیر و برکت اور نور ہے، جبکہ شیاطین سرا سر شر و فساد اور ظلمت سے بھرے ہوئے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
➋ { وَ مَا يَسْتَطِيْعُوْنَ:} دوسری یہ کہ اگر ان کے لائق ہو بھی تو وہ اس جیسا کلام لانے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، خواہ کتنی کوشش کر لیں، فرمایا: «{ قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا}» [ بني إسرائیل: ۸۸ ] ”کہہ دے اگر سب انسان اور جن جمع ہوجائیں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہیں لائیں گے، اگرچہ ان کا بعض بعض کا مددگار ہو۔“
➋ { وَ مَا يَسْتَطِيْعُوْنَ:} دوسری یہ کہ اگر ان کے لائق ہو بھی تو وہ اس جیسا کلام لانے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، خواہ کتنی کوشش کر لیں، فرمایا: «{ قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا}» [ بني إسرائیل: ۸۸ ] ”کہہ دے اگر سب انسان اور جن جمع ہوجائیں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہیں لائیں گے، اگرچہ ان کا بعض بعض کا مددگار ہو۔“