🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة النمل
وَ اِنَّ رَبَّکَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۳﴾
اور بے شک تیرا رب یقینا لوگوں پر بڑے فضل والا ہے اور لیکن ان کے اکثر شکر نہیں کرتے۔[73]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 73) {وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ …: لَذُوْ فَضْلٍ } پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ بڑے فضل والا کیا گیا ہے، یعنی ان لوگوں کے جلدی عذاب لانے کے مطالبے کے باوجود اللہ تعالیٰ عذاب میں تاخیر کر رہا ہے اور انھیں مہلت دے رہا ہے، تو یہ اس کا ان پر بہت بڑا فضل ہے، جس پر انھیں اس کا شکر گزار ہونا چاہیے، مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ اکثر اس لیے فرمایا کہ ایک قلیل تعداد اہل ایمان کی ایسی ہے جو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔