🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة يس
وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَاِذَا ہُمۡ مِّنَ الۡاَجۡدَاثِ اِلٰی رَبِّہِمۡ یَنۡسِلُوۡنَ ﴿۵۱﴾
اور صور میں پھونکا جائے گا تو اچانک وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف تیزی سے دوڑ رہے ہوں گے۔[51]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 51) {وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ: الْاَجْدَاثِ جَدَثٌ} کی جمع ہے، جیسے {فَرَسٌ} کی جمع {أَفْرَاسٌ} ہے۔{ يَنْسِلُوْنَ نَسَلَ} (ن، ض) {نَسْلاً، نَسَلًا وَ نَسَلَانًا فِيْ مَشْيِهِ} دوڑنا۔

یعنی صور میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک سب لوگ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ رہے ہوں گے۔ (دیکھیے قمر: ۶ تا ۸۔ معارج: ۴۳) صور میں کتنی دفعہ پھونکا جائے گا اور دو دفعہ پھوکنے کے درمیان کتنا عرصہ ہو گا، اس تفصیل کے لیے سورۂ نمل کی آیت (۸۷) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔