🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة ق
وَ النَّخۡلَ بٰسِقٰتٍ لَّہَا طَلۡعٌ نَّضِیۡدٌ ﴿ۙ۱۰﴾
اور کھجوروں کے درخت لمبے لمبے، جن کے تہ بہ تہ خوشے ہیں۔[10]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 10) ➊ { وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ: النَّخْلَ } اسم جنس ہے جو کھجور کے درختوں پر بولا جاتا ہے، زیادہ ہوں یا ایک۔ اگر کھجور کا ایک درخت ہو تو اسے {نَخْلَةٌ} کہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ» [ مریم:۲۳ ] پھر دردزہ اسے کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ {بَسَقَ يَبْسُقُ بُسُوْقًا(ن) اَلنَّخْلُ} کھجور کے درختوں کا لمبا اور بلند ہونا۔ چنانچہ زمین پر پڑے ہوئے کھجور کے لمبے تنے کو باسق نہیں کہتے۔

➋ { لَهَا طَلْعٌ نَّضِيْدٌ: طَلْعٌ } کھجور کے پھل کا خوشہ جو شروع میں طلوع ہوتا ہے اور اس پر پردہ ہوتا ہے۔ { نَضِيْدٌ } بمعنی {مَنْضُوْدٌ} تہ بہ تہ۔ یعنی پردے کے اندر انار کے دانوں کی طرح کھجور کے دانوں کی ابتدا تہ بہ تہ قطاروں کی شکل میں ہوتی ہے، جب غلاف سے باہر نکل آئیں تو { نَضِيْدٌ } نہیں رہتے، بلکہ الگ الگ ہو جاتے ہیں۔