پھر بڑی ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ان کے اس دن سے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں۔[60]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 60) {فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: ” فَوَيْلٌ “} پر تنوین تہویل کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی ہلاکت“ کیا گیا ہے۔ ”جس دن کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں“ سے مراد قیامت کا دن ہے، جس کا سورت کے شروع میں ذکر ہے، فرمایا: «اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ (5) وَّ اِنَّ الدِّيْنَ لَوَاقِعٌ» [ الذاریات: ۵، ۶ ]”کہ بلاشبہ جو تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یقینا سچا ہے۔ اور بلاشبہ جزا یقینا واقع ہونے والی ہے۔“ سورۂ معارج میں قبروں سے نکلنے کے دن کے متعلق فرمایا: «ذٰلِكَ الْيَوْمُ الَّذِيْ كَانُوْا يُوْعَدُوْنَ» [ المعارج: ۴۴ ]”یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔“