🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الشمس
وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾
اور یقینا وہ نامراد ہوگیا جس نے اسے مٹی میں دبا دیا۔[10]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 10){ وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا: دَسَّا دَسَّ يَدُسُّ دَسًّا} (ن) سے مبالغے کے لیے باب تفعیل ہے، معنی ہے مٹی میں دبا دینا، یہ اصل میں {دَسَّسَ} تھا، دوسرے سین کو الف کر دیا، جیسے {تَقَضَّضَ الْبَازِيْ} (باز شکار پر ٹوٹ پڑا) کو {تَقَضَّي الْبَازِيْ} کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «‏‏‏‏اَمْ يَدُسُّهٗ فِي التُّرَابِ» ‏‏‏‏ [النحل:۵۹] یا اسے مٹی میں دبا دے۔