تفسیر ابن کثیر
سورة الحجر
وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ فِیۡ شِیَعِ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۰﴾وَ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۱۱﴾کَذٰلِکَ نَسۡلُکُہٗ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ وَ قَدۡ خَلَتۡ سُنَّۃُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۳﴾
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں میں بھی اپنے رسول (برابر) بھیجے[10]اور (لیکن) جو بھی رسول آتا وه اس کا مذاق اڑاتے[11]گناه گاروں کے دلوں میں ہم اسی طرح یہی رچا دیا کرتے ہیں[12]وه اس پر ایمان نہیں ﻻتے اور یقیناً اگلوں کا طریقہ گزرا ہوا ہے[13]
......
......
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے[10]اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے[11]اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں[12]سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے[13]
......
......
[ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے اگلے لوگوں کے گروہوں میں رسول بھیجے ۔[10]اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا تھا مگر وہ اس کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے۔[11]اسی طرح ہم یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں۔[12]وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور یقینا (یہی) پہلے لوگوں کا طریقہ گزرا ہے۔[13]
......
......
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 10،11،12،13
باب
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین دیتا ہے کہ ’ جس طرح لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول علیہ السلام کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے ‘۔
ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء علیہم السلام نجات پاگئے اور ایماندار عافیت حاصل کرگئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ہے۔
ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء علیہم السلام نجات پاگئے اور ایماندار عافیت حاصل کرگئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ہے۔