🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأعراف
قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِیۡنَ ﴿۱۱۵﴾
انھوں نے کہا اے موسیٰ! یا تو توُ پھینکے، یا ہم ہی پھینکنے والے ہوں۔[115]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
115۔ (پھر مقابلے کے وقت) جادوگر کہنے لگے: موسیٰ! تم ڈالتے [116] ہو یا ہم ڈالیں؟
[116] جادوگروں کو چونکہ یہی بتلایا گیا تھا کہ ان کا ایک بڑے جادوگر سے مقابلہ ہے لہٰذا سیدنا موسیٰؑ کی عزت و تکریم کی خاطر یہ بات موسیٰؑ سے پوچھی جیسا کہ ایسے مقابلے کے وقت یہی دستور رائج تھا۔