🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة التوبة
اَفَمَنۡ اَسَّسَ بُنۡیَانَہٗ عَلٰی تَقۡوٰی مِنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٍ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنۡ اَسَّسَ بُنۡیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ہَارٍ فَانۡہَارَ بِہٖ فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾
تو کیا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی، بہتر ہے، یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کھوکھلے تودے کے کنارے پر رکھی، جو گرنے والا تھا؟ پس وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں گر گیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔[109]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
109۔ (ذرا سوچو) کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی رضا پر رکھی ہو یا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایک کھوکھلے [122] گڑھے کے کنارے پر رکھی ہو جو اس کو بھی لے کر جہنم کی آگ میں جا گرے؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا
[122] جرف سے مراد دریا وغیرہ کا ایسا کنارہ ہے جس کے نیچے کی زمین دریا بہا کر لے گیا ہو اور وہ کسی وقت بھی پانی کی ایک ہی ٹکر سے گر کر دریا میں گر پڑے۔ اس آیت میں اللہ کے خوف اور اس کی رضا کو پختہ اور ٹھوس زمین سے اور نفاق کو کھوکھلے گڑھے یا کھائی سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی جس عمل کی بنیاد نفاق پر ہو وہ خواہ دیکھنے میں اچھا نظر آتا ہو، جیسے کوئی مسجد بنانا وہ اسے جہنم کی گہرائیوں میں جا پٹکے گا۔