یا تم موجود تھے جب یعقوب کو موت پیش آئی، جب اس نے اپنے بیٹوں سے کہا میرے بعد کس چیز کی عبادت کرو گے؟ انھوںنے کہا ہم تیرے معبود اور تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی عبادت کریں گے، جو ایک ہی معبود ہے اور ہم اسی کے لیے فرماں بردار ہیں۔[133]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
133۔ کیا تم اس وقت موجود [165] تھے جب یعقوب پر موت کا وقت آیا۔ اس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا ”میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟“ انہوں نے جواب دیا ”ہم اسی ایک الٰہ کی بندگی کریں گے جو آپ کا اور آپ کے آباء و اجداد ابراہیم اسماعیل اور اسحاق کا الٰہ ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔“
[165] یہود کا یعقوبؑ پر الزام:۔
ایک دفعہ یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ یعقوبؑ نے ہمیں یہودی رہنے کی وصیت کی تھی۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے یہود مدینہ سے پوچھا: جب یعقوبؑ مرنے کے قریب تھے تو کیا تم اس وقت موجود تھے جو اس وثوق سے کہتے ہو کہ یعقوبؑ نے یہودیت کی وصیت کی تھی؟ پھر جو کچھ یعقوبؑ نے بوقت مرگ اپنے بیٹوں سے پوچھا اور جو بیٹوں نے جواب دیا اس کو اللہ تعالیٰ نے خود بیان کر کے یہود کے اس قول کی تردید فرما دی۔