🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة البقرة
تِلۡکَ اُمَّۃٌ قَدۡ خَلَتۡ ۚ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ لَکُمۡ مَّا کَسَبۡتُمۡ ۚ وَ لَا تُسۡـَٔلُوۡنَ عَمَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۳۴﴾
یہ ایک امت تھی جو گزر چکی، اس کے لیے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمھارے لیے وہ جو تم نے کمایا اور تم سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔[134]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
134۔ یہ ایک جماعت تھی جو گزر چکی۔ جو کچھ اس جماعت نے اعمال کیے وہ ان کے لیے ہیں اور جو کچھ تم کماؤ گے [166] وہ تمہارے لیے ہے۔ اور تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے
[166] یعنی انبیاء کی اور ان کے متبعین کی جماعت۔ اگرچہ اے یہود! تم ان کی اولاد ہو مگر ان کے اعمال تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتے۔ تمہارے لیے تو وہی کچھ ہو گا جو تم خود کر رہے ہو۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تمہارے آباء و اجداد کیا کرتے تھے بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم خود کیا کرتے رہے؟