یہ لوگ کبھی زمین میں عاجز کرنے والے نہیں اور نہ کبھی ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار ہیں، ان کے لیے عذاب دگنا کیا جائے گا۔ وہ نہ سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ دیکھا کرتے تھے۔[20]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
20۔ یہ لوگ زمین میں (اللہ کو) بے بس کرنے والے نہ تھے اور نہ ہی اللہ کے مقابلہ میں ان کا کوئی حامی ہو گا۔ انھیں دگنا عذاب [24] دیا جائے گا۔ وہ نہ تو (حق بات) سننا گوارا کر سکتے تھے اور نہ ہی خود [25] انھیں کچھ سوجھتا تھا
[24] اللہ کے ذمہ جھوٹ لگانے پر سخت ترین عذاب کیوں ہو گا:۔
یعنی اگر اللہ چاہتا تو دنیا میں ہی ان کو سزا دے کر تباہ و برباد کر سکتا تھا اور یہ لوگ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے تھے اور آج قیامت کے دن بھی ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں ہو گا اور انھیں دگنا عذاب اس لیے دیا جائے گا کہ ایک تو خود گمراہ ہوئے دوسرے یہی گمراہی کی میراث اپنی اولاد کے لیے اور دوسرے پیروکاروں کے لیے چھوڑ گئے۔ جن کے عذاب سے حصہ رسدی ان کے کھاتے میں بھی جمع ہوتا رہا۔
[25] دگنے عذاب کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ایک تو خود وہ سیدھی راہ دیکھنے کی کوشش ہی نہ کرتے تھے اور دوسرے اس لیے کہ اگر انھیں کوئی سیدھی راہ بتلانے کی کوشش کرتا تو اس کی بات سننا بھی انھیں گوارا نہ تھی بلکہ اس کے درپے آزار ہو جاتے تھے۔