🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة هود
قَالَ یٰقَوۡمِ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کُنۡتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ وَ اٰتٰىنِیۡ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِہٖ فَعُمِّیَتۡ عَلَیۡکُمۡ ؕ اَنُلۡزِمُکُمُوۡہَا وَ اَنۡتُمۡ لَہَا کٰرِہُوۡنَ ﴿۲۸﴾
اس نے کہا اے میری قوم! کیا تم نے دیکھا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر (قائم) ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بڑی رحمت عطا فرمائی ہو، پھر وہ تم پر مخفی رکھی گئی ہو، تو کیا ہم اسے تم پر زبردستی چپکا دیں گے، جب کہ تم اسے ناپسند کرنے والے ہو۔[28]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
28۔ نوح نے کہا: اے میری قوم! (بھلا دیکھو) اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے رحمت (نبوت) بھی عطا کی ہو جو تمہیں نظر نہ آ رہی ہو [36] تو کیا ہم اسے زبردستی تم پر چپیک سکتے ہیں؟ (کہ تم ضرور ایمان لاؤ) درآنحالیکہ تم اسے ناپسند کر رہے ہو
[36] نبی اور عام کافروں کی زندگی کا فرق:۔

نوحؑ نے جواب دیا کہ امتیازی باتیں تو مجھ میں موجود ہیں یہ الگ بات ہے کہ تمہارے امتیاز کا معیار اور ہے اور میرے نزدیک دوسرا ہے۔ میں نے ایک اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہیں کی ہمیشہ حق بات کہتا ہوں اور حق کی ہی دعوت دیتا ہوں ہر ایک شخص کا ہمدرد ہوں کسی کو دکھ نہیں پہنچاتا نہ دغا فریب کرتا ہوں۔ مزید یہ کہ اللہ نے مجھے نبوت عطا کر کے اپنی رحمت سے نوازا بھی ہے گویا میری اور تمہاری زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے پھر بھی اگر تمہیں کوئی امتیازی فرق نظر نہیں آتا تو میں زبردستی تمہیں کیسے قائل کر سکتا ہوں؟