🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة هود
فَلَا تَکُ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّمَّا یَعۡبُدُ ہٰۤؤُلَآءِ ؕ مَا یَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَعۡبُدُ اٰبَآؤُہُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوۡہُمۡ نَصِیۡبَہُمۡ غَیۡرَ مَنۡقُوۡصٍ ﴿۱۰۹﴾٪
پس تو اس کے بارے میں جس کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں، کسی شک میں نہ رہ، یہ لوگ عبادت نہیں کرتے مگر جیسے ان سے پہلے ان کے باپ دادا عبادت کرتے تھے اور بے شک ہم یقینا انھیں ان کا حصہ پورا پورا دینے والے ہیں، جس میں کوئی کمی نہ کی گئی ہو گی۔[109]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
109۔ پس (اے نبی) جن چیزوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں ان کے بارے میں کسی شک میں نہ رہئے [121] یہ تو انھیں ایسے ہی (اندھی عقیدت سے) پوج رہے ہیں جیسے ان سے پہلے ان کے باپ دادا [122] کرتے رہے اور ہم بلا کم و کاست انھیں ان کا پورا پورا حصہ دیں گے
[121] یہ خطاب رسول اللہ کو محض تاکید مزید کے لیے ہے ورنہ خطاب عام لوگوں کو ہے نبی تو دوسرے لوگوں کے بھی اس قسم کے شکوک رفع کرتا ہے وہ خود کیسے اس قسم کے شک میں مبتلا ہو سکتا ہے؟

[122] مشرکانہ عقائد نقل، عقل اور تجربہ کے مطابق غلط ہیں:۔

یعنی جب قوم پر عذاب آیا تو ان کے بت، مجاور اور آستانے انھیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے تو اب ان کفار مکہ کے معبود انھیں کیسے بچا سکتے ہیں یا ان کی حمایت کر سکتے ہیں؟ لہٰذا جو کچھ عقائد ان لوگوں نے اپنے معبودوں سے متعلق قائم کر رکھے ہیں وہ عقل اور تجربہ کی کسوٹی پر غلط ثابت ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ جو کچھ ہو رہا ہے محض اندھی تقلید کی بنا پر ہو رہا ہے اور ہم ایسے لوگوں کو پوری پوری سزا دیں گے۔