🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة يوسف
فَلَمَّا جَہَّزَہُمۡ بِجَہَازِہِمۡ جَعَلَ السِّقَایَۃَ فِیۡ رَحۡلِ اَخِیۡہِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُہَا الۡعِیۡرُ اِنَّکُمۡ لَسٰرِقُوۡنَ ﴿۷۰﴾
پھر جب اس نے انھیں ان کے سامان کے ساتھ تیار کر دیا تو پینے کا برتن اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھ دیا، پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا اے قافلے والو! بلاشبہ تم یقینا چور ہو۔[70]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
70۔ پھر جب یوسف نے (ان کی روانگی کے لئے) ان کا سامان تیار کیا تو اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پانی پینے کا پیالہ رکھ دیا۔ (جب یہ لوگ شہر سے نکل آئے تو پیچھے سے) ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا: اے قافلہ والو! تم تو چور ہو