🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الكهف
ثُمَّ بَعَثۡنٰہُمۡ لِنَعۡلَمَ اَیُّ الۡحِزۡبَیۡنِ اَحۡصٰی لِمَا لَبِثُوۡۤا اَمَدًا ﴿٪۱۲﴾
پھر ہم نے انھیں اٹھایا، تا کہ ہم معلوم کریں دونوں گروہوں میں سے کون وہ مدت زیادہ یاد رکھنے والا ہے جو وہ ٹھہرے۔[12]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
12۔ پھر ہم نے انھیں اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ ہر دو فریق [11] میں سے کون اپنی مدت قیام کا ٹھیک حساب رکھتا ہے۔
[11] اسی حالت میں سوئے ہوئے انھیں صدیاں گزر گئیں پھر جب اللہ نے چاہا انھیں بیدار کر دیا۔ بیدار کرنے کے بعد ان کا آپس میں پہلا سوال یہ تھا کہ ہم کو اس حالت میں سوئے ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہو گا؟ اس مدت کے تعین میں ان میں اختلاف واقع ہو گیا اس لیے کہ ان کے پاس یہ مدت معلوم کرنے یا اس کی تعین کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا سوا اس کے کہ وہ دھوپ سے وقت کے متعلق کچھ اندازہ کر سکیں۔