اور اس دن ہم ان کے بعض کو چھوڑیں گے کہ بعض میں ریلا مارتے ہوں گے اور صور میں پھونکا جائے گا تو ہم ان کو جمع کریں گے، پوری طرح جمع کرنا۔[99]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
99۔ اس دن ہم لوگوں کو کھلا چھوڑ دیں گے کہ وہ ایک دوسرے [82] سے گتھم گتھا ہو جائیں اور صور پھونکا جائے گا پھر ہم سب لوگوں کو اکٹھا کر دیں گے
[82] اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب دیوار ذو القرنین پیوند خاک ہو جائے گی تو یاجوج ماجوج سمندر کی موجوں کی طرح بے شمار تعداد میں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے نکلیں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن نفخہ صور ثانی ہو گا تو لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر موجوں کی طرح ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اس کے بعد سب اللہ کے سامنے میدان حشر میں اکٹھے کیے جائیں گے۔