🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة مريم
قَالَتۡ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ لَمۡ یَمۡسَسۡنِیۡ بَشَرٌ وَّ لَمۡ اَکُ بَغِیًّا ﴿۲۰﴾
اس نے کہا میرے لیے لڑکا کیسے ہوگا، جب کہ مجھے نہ کسی بشر نے چھوا ہے اور نہ میں کبھی بدکار تھی۔[20]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
20۔ وہ بولیں: میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا جبکہ مجھے کسی انسان [21] نے چھوا تک نہیں اور میں بد کار بھی نہیں
[21] یعنی سیدہ مریم کا پہلا خوف تو دور ہو گیا کہ یہ کوئی بد کار آدمی نہیں بلکہ اللہ کا فرستادہ فرشتہ ہے اب حیرت اس بات پر ہوئی کہ لڑکا ہو کیسے سکتا ہے؟ جب تک کسی مرد سے صحبت نہ ہو خواہ یہ بالجبر کی صورت میں ہو یا بالرضا کی صورت میں؟ اور یہ دونوں باتیں یہاں مفقود تھیں۔