🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة مريم
فَاِنَّمَا یَسَّرۡنٰہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الۡمُتَّقِیۡنَ وَ تُنۡذِرَ بِہٖ قَوۡمًا لُّدًّا ﴿۹۷﴾
سو اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم نے اسے تیری زبان میں آسان کر دیا ہے، تاکہ تو اس کے ساتھ متقی لوگوں کو خوشخبری دے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائے جو سخت جھگڑالو ہیں۔[97]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
97۔ پس (اے نبی) ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان میں آسان بنا دیا ہے تاکہ آپ اس سے پرہیزگاروں کو بشارت دیں اور کج بحثی [83] کرنے والوں کو ڈرائیں۔
[83] قوما لُدّا سے مراد ہٹ دھرم، جھگڑالو اور کج بحثی کرنے والے قریشی سردار ہیں۔ جو ہر بات میں میں میخ نکالنے کے عادی تھے۔ انھیں ہی یہ تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تمہارے جیسی بہت سی اقوام کو ہم نے یوں تہس نہس کر دیا کہ ان کا نام و نشان تک صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ اور ان کی شیخیوں، گستاخیوں اور لن ترانیوں کی آج بھنک تک سنائی نہیں دیتی۔