اور اسی کا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو اس کے پاس ہیں وہ نہ اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں اور نہ زرہ برابر تھکتے ہیں۔[19]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
19۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور جو مخلوق (فرشتے) اس کے حضور میں ہیں وہ اس کی بندگی سے اکڑتے نہیں اور نہ ہی وہ اکتاتے [16] ہیں۔
[16] فرشتوں کے وظائف:۔
یعنی فرشتے اللہ کی ایسی مخلوق ہے۔ جو ہر آن اللہ کی تسبیح و تحمید میں مشغول رہتے ہیں اور وہ اللہ کی بندگی کو ناگوار سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ نہایت خوشدلی سے بجا لاتے ہیں۔ قرآن نے یہاں یستحسرون کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور استحسار ایسی تھکاوٹ یا اکتاہٹ کو کہتے ہیں جو کسی ناگوار کام کے کرنے سے لاحق ہوتی ہے۔ اور ان کی یہ تسبیح بالکل ایسے ہی بلا وقفہ ہوتی ہے جیسے انسان مسلسل سانس لیتا ہے اور اس میں کبھی وقفہ نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا انسان کی تخلیق سے مقصود محض اپنی عبادت ہی ہوتی تو فرشتے یہ کام بطریق احسن بجا لا رہے تھے۔ لیکن اصل مقصد یہ تھا کہ یہاں حق و باطل کا معرکہ بپا ہو اور وہ انسان کو پیدا کرنے اور اسے عقل اور قوت ارادہ و اختیار رہنے سے ہی ہو سکتا تھا اور انسانوں کی آزمائش اسی طرح ہو سکتی تھی۔