🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الشعراء
اَنۡ اَرۡسِلۡ مَعَنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۱۷﴾
یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔[17]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
17۔ (اور اس لئے آئے ہیں کہ) تو بنی اسرائیل کو (آزاد کر کے) ہمارے ساتھ روانہ [12] کر دے
[12] اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کا مطالبہ منظور کر لینے کے بعد اور فرعون کی دست درازیوں سے حفاظت کی یقین دہانی کے بعد ان دونوں کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جائیں اور اسے بتائیں کہ ہم رب العالمین کے رسول یا فرستادہ ہیں اگر وہ جھٹلائے تو پھر دو معجزات نشانی کے طور پر اسے دکھائیں اور ساتھ ہی اس سے یہ مطالبہ کر دیں کہ ہماری قوم بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے ہمارے ہمراہ روانہ کر دے۔ چنانچہ ان دونوں پیغمبروں نے اللہ کے اس حکم کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔ فرعون کے دربار تک پہنچے اور اسے جوں کا توں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔