🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الشعراء
فَاَلۡقٰی مُوۡسٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ تَلۡقَفُ مَا یَاۡفِکُوۡنَ ﴿ۚۖ۴۵﴾
پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگل رہی تھی جو وہ جھوٹ بنا رہے تھے۔[45]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
45۔ پھر موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا تو جو کچھ جادوگروں نے شعبدے بنائے تھے، اس نے انھیں فوراً نگلنا شروع [35] کر دیا۔
[35] عصائے موسیٰ کا جادوگروں کے سانپوں کو ہڑپ کرنا:۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو فوراً وحی کی کہ ڈرو نہیں بس اپنا عصا ڈال دو۔ چنانچہ آپ نے عصا ڈالا تو وہ صرف حرکت ہی نہیں کر رہا تھا بلکہ جادوگروں کے بنائے ہوئے تمام سانپوں کو اپنا لقمہ بھی بنائے جا رہا تھا۔ حتیٰ کہ اس نے ایسے تمام بناوٹی سانپوں کو اپنی لقمہ بنایا کہ میدان سانپوں سے صاف ہو گیا۔ بھرے مجمع میں اس مقابلہ میں فرعون کو شکست ہوئی۔۔ پھر موسیٰؑ نے عصا کو ہاتھ میں لیا تو پھر وہ عصا بن گیا۔