🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة آل عمران
فَاِنۡ حَآجُّوۡکَ فَقُلۡ اَسۡلَمۡتُ وَجۡہِیَ لِلّٰہِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ ؕ وَ قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ وَ الۡاُمِّیّٖنَ ءَاَسۡلَمۡتُمۡ ؕ فَاِنۡ اَسۡلَمُوۡا فَقَدِ اہۡتَدَوۡا ۚ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الۡبَلٰغُ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿٪۲۰﴾
پھر اگر وہ تجھ سے جھگڑا کریں تو کہہ دے میں نے اپنا چہرہ اللہ کے تابع کر دیااور اس نے بھی جس نے میری پیروی کی، اور ان لوگوں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دے کیا تم تابع ہوگئے؟ پس اگر وہ تابع ہو جائیں تو بے شک ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔[20]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
20۔ پھر اگر (یہ اہل کتاب ان اختلافی امور میں) آپ سے جھگڑا کریں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ: میں نے بھی اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے اور میرے پیرو کاروں نے بھی اور ان اہل کتاب اور غیر اہل کتاب دونوں سے پوچھئے کہ: کیا تم بھی اللہ کے فرمانبردار بنتے ہو؟ اگر وہ فرمانبردار بن جائیں تو انہوں نے راہ ہدایت پا لی اور اگر منہ پھیر لیں تو آپ پر صرف پیغام پہچانے کی ذمہ داری ہے۔ اور اللہ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے