اور جو لو گ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے یقینا ہم ان سے ان کی برائیاں ضرور دور کر دیں گے اور یقینا انھیں اس عمل کی بہترین جزا ضرور دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔[7]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
7۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ہم ضرور ان کی برائیاں دور کر دیں [8] گے اور جو کچھ انہوں نے کیا ہو گا انھیں اس سے [9] بہتر بدلہ دیں گے۔
[8] نیکیوں سے برائیاں مٹنے کی مختلف صورتیں:۔
اس کی تین صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص اسلام لائے اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح نیک اعمال بجا لانے سے چھوٹی موٹی برائیاں معاف کر دی جاتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ جو شخص نیک کام بجا لانا شروع کر دے۔ اس کو از خود برائیوں سے نفرت ہو جاتی ہے۔ تیسرے یہ کہ جس معاشرہ میں نیکیاں رواج پانے لگیں۔ برائیاں از خود مٹتی چلی جاتی ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک چیز آئے گی تو لامحالہ دوسری کو رخصت ہونا پڑے گا۔ بالکل ایسا ہی معاملہ سنت اور بدعت کا ہے۔ جس کے متعلق واضح الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ:”جہاں ایک بدعت رواج پاتی ہے تو وہاں سے ایک سنت اٹھا لی جاتی ہے۔“ گویا بدعت کے رواج پانے کا ہی دوسرا پہلو سنت کا اٹھ جانا ہے۔
[9] اس جملہ کے بھی دو مطلب ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے۔ یعنی جتنا اس نیک عمل کا اجر تھا اس سے زیادہ یا بہتر عطا کرے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان کا جو بہتر عمل ہو گا اللہ اس کے باقی عملوں کا بھی اس بہتر عمل کے معاوضہ کے حساب سے معاوضہ عطا فرما دے گا۔