🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة العنكبوت
مَثَلُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَوۡلِیَآءَ کَمَثَلِ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۖۚ اِتَّخَذَتۡ بَیۡتًا ؕ وَ اِنَّ اَوۡہَنَ الۡبُیُوۡتِ لَبَیۡتُ الۡعَنۡکَبُوۡتِ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۱﴾
ان لوگوں کی مثال جنھوں نے اللہ کے سوا اور مددگار بنا رکھے ہیں مکڑی کی مثال جیسی ہے، جس نے ایک گھر بنایا، حالانکہ بے شک سب گھروں سے کمزور تو مکڑی کا گھر ہے، اگر وہ جانتے ہوتے۔[41]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
41۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو سرپرست بنا رکھا ہے ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جس نے اپنا گھر بنایا ہو اور سب گھروں سے کمزور گھر مکڑی [66] کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش! یہ لوگ کچھ جانتے
[66] مشرکوں کے معبودوں کی مثال جیسے مکڑی کا گھر ہو:۔

یعنی اوپر جن جن اقوام کا ذکر آیا ہے یہ سب ہی شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھیں۔ انھیں چیزوں کو انہوں نے اپنا مشکل کشا سمجھ رکھا تھا اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ان کے سامنے قربانیاں بھی پیش کی جائیں اور نذروں و نیازوں کے چڑھاوے بھی چڑھائے جاتے تھے، اس امید پر کہ ہمارے یہ سرپرست حضرات ہم سے خوش رہیں۔ اور مصیبت کے وقت ہمارے کام آئیں مگر ان مشرکوں کے معبودوں یا سرپرستوں کی مثال تو لکڑی کے گھر جیسی ہے جو اس قدر کمزور ہوتا ہے کہ انگلی کی ایک ہلکی سی جنبش سے تار تار ہو جاتا ہے اور گر پڑتا ہے۔ اسی طرح ان مشرکوں پر جب اللہ کا عذاب آیا تو اس عذاب کی پہلی اور ہلکی سی ضرب سے ہی ان کی تمام تر توقعات کا قصر تار تار ہو گیا اور ان کے معبود جہاں تھے وہیں پڑے کے پڑے رہ گئے۔