🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة العنكبوت
اِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۴۲﴾
یقینا اللہ جانتا ہے جسے وہ اس کے سوا پکارتے ہیں کوئی بھی چیز ہو اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔[42]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
42۔ یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس جس چیز کو پکارتے ہیں۔ اللہ اسے خوب جانتا [67] ہے اور وہی سب پر غالب اور حکمت [68] والا ہے۔
[67] اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو ترجمہ سے ہی واضح ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ جن جن چیزوں کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کی حقیقت کچھ بھی نہیں اور محض لاشیئ ہیں۔

[68] یعنی اللہ کو نہ تو ان معبودان باطل کی رفاقت مطلوب ہے۔ کیونکہ خود ہی سب سے زبردست اور سب پر غالب ہے۔ اور نہ ہی ان سے کسی قسم کے مشورہ کی ضرورت ہے کیونکہ وہ حکیم مطلق ہے۔ اپنے ہر کام کی حکمت اور مصلحت سے خوب واقف ہے۔