🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة يس
ءَاَتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً اِنۡ یُّرِدۡنِ الرَّحۡمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغۡنِ عَنِّیۡ شَفَاعَتُہُمۡ شَیۡئًا وَّ لَا یُنۡقِذُوۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾
کیا میں اس کے سوا ایسے معبود بنا لوں کہ اگر رحمان میرے بارے میں کسی نقصان کا ارادہ کرے تو ان کی سفارش میرے کسی کام نہ آئے گی اور نہ وہ مجھے بچائیں گے۔[23]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
23۔ کیا میں اللہ کے سوا دوسروں کو الٰہ بنا لوں کہ اگر رحمن مجھے کوئی تکلیف دینا چاہے تو نہ ان کی سفارش میرے کسی کام آئے اور نہ ہی وہ خود [26] مجھے چھڑا سکیں؟
[26] پانچویں بات اس نے یہ سمجھائی کہ میں ایسے مشکل کشاؤں کی مشکل کشائی کا ہرگز قائل نہیں کہ اگر میرا پروردگار مجھے کسی تکلیف میں مبتلا کر دے تو ان میں نہ تو اتنی طاقت ہے کہ وہ اللہ کے مقابلہ میں مجھے اس تکلیف سے بچا سکیں اور نہ یہ کر سکتے ہوں کہ اللہ سے سفارش کر کے مجھے اس مشکل سے نجات دلا سکیں۔ یہ باتیں وہ کہہ تو اپنے آپ رہا تھا مگر ’بمصداق گفتہ آید در حدیث دیگراں‘ سنا سب کچھ قوم کو رہا تھا کہ تمہیں اس طرح کی بے بس اور بے اختیار چیزوں کو ہرگز معبود نہ بنانا چاہئے۔ اور یہی عیوب کفار مکہ میں پائے جاتے تھے۔