🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة ص
جُنۡدٌ مَّا ہُنَالِکَ مَہۡزُوۡمٌ مِّنَ الۡاَحۡزَابِ ﴿۱۱﴾
(یہ) ایک حقیر سا لشکر ہے، لشکروں میں سے، جو اس جگہ شکست کھانے والا ہے۔[11]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
11۔ یہ تو بڑے بڑے لشکروں میں ایک معمولی سا لشکر ہے جو اسی جگہ [13] شکست کھا جائے گا۔
[13] اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے گروہوں میں سے یہ کوئی اتنا بڑا جتھا نہیں ان سے بڑے بڑے جتھے پہلے گزر چکے اور مات کھا چکے ہیں۔ یہ کفار مکہ کی تو ایک معمولی سی جمعیت ہے جو اسی مقام پر یعنی مکہ میں ہی جہاں یہ بیٹھے باتیں بنا رہے ہیں، اپنی مکمل شکست دیکھ لیں گے۔ یہ گویا کفار مکہ کے حق میں ایک پیشین گوئی تھی جو چند ہی سال بعد حرف بحرف پوری ہو کے رہی۔