تم مجھے بلاتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور اس کے ساتھ اسے شریک ٹھہراؤں جس کا مجھے کچھ علم نہیں اور میں تمھیں سب پرغالب، بے حد بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں۔[42]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
42۔ تم مجھے یہ دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور ایسی چیزوں کو اس کا شریک بناؤں جن کے متعلق مجھے کچھ علم [55 ] نہیں حالانکہ میں تمہیں اس کی طرف بلاتا ہوں جو سب پر غالب ہے اور بخشنے والا ہے۔
[55] تم یہ چاہتے ہوں کہ میں بھی تمہاری طرح سورج دیوتا کے آگے سر جھکاؤں اور گؤ ماتا کی پوجا کروں میری معلومات کی حد تک ایسی چیزوں کی پرستش کے لئے تم کوئی عقلی دلیل پیش نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی الہامی کتاب سے یہ ثابت کر سکتے ہو یہ چیزیں بھی عبادت کے لائق ہیں۔ یہ تو بس باپ دادا کی تقلید کی اندھی روش ہے پھر تم یہ بھی چاہتے ہو کہ میں ایسے نظام حکومت کا کل پرزہ بن کر رہوں جو رسولوں کی مخالفت پر اتر آئی ہے۔ اور طبقاتی تقسیم کو ہوا دے کر بنی اسرائیل پر بے پناہ مظالم ڈھا رہی ہے۔ میں ان باتوں سے سخت بیزار ہوں۔ اس کے بجائے میں تمہیں اس پروردگار کی عبادت اور اطاعت کی طرف دعوت دیتا ہوں جس نے کائنات کی ہر چیز کو صرف پیدا ہی نہیں کیا بلکہ ان پر پوری طرح کنٹرول بھی رکھے ہوئے ہے۔ اور جو شخص اس کی طرف رجوع کرے اس کے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے۔