تم مجھے بلاتے ہو کہ میں اللہ کا انکار کروں اور اس کے ساتھ اسے شریک ٹھہراؤں جس کا مجھے کچھ علم نہیں اور میں تمھیں سب پرغالب، بے حد بخشنے والے کی طرف بلاتا ہوں۔[42]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
تَدۡعُوۡنَنِیۡ
لِاَکۡفُرَ
بِاللّٰہِ
وَاُشۡرِکَ
بِہٖ
مَا
لَیۡسَ
لِیۡ
بِہٖ
عِلۡمٌ
وَّاَنَا
اَدۡعُوۡکُمۡ
اِلَی
الۡعَزِیۡزِ
الۡغَفَّارِ
تم بلاتے ہو مجھے
کہ میں کفر کروں
ساتھ اللہ کے
اور میں شریک ٹھہراؤں
ساتھ اس کے
اس کو جو
نہیں ہے
مجھے
اس کا
کوئی علم
اور میں
میں بلاتا ہوں تمہیں
طرف
بہت زبردست کے
بہت بخشنے والے کے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
تَدۡعُوۡنَنِیۡ
لِاَکۡفُرَ
بِاللّٰہِ
وَاُشۡرِکَ
بِہٖ
مَا لَیۡسَ
لِیۡ
بِہٖ
عِلۡمٌ
وَّاَنَا
اَدۡعُوۡکُمۡ
اِلَی
الۡعَزِیۡزِ
الۡغَفَّارِ
تم دعوت دیتے ہو مجھے
کہ میں کفرکروں
اللہ تعالیٰ کے ساتھ
اورمیں شریک بناؤں
اس کے ساتھ
جن کانہیں
مجھے
اس کا
علم
حالانکہ میں
دعوت دیتاہوں تمہیں
طرف
سب پرغالب
بے حدبخشنے والے کے
حافظ نذر احمد حفظه الله
تَدْعُوْنَنِيْ
لِاَكْفُرَ
بِاللّٰهِ
وَاُشْرِكَ بِهٖ
مَا لَيْسَ لِيْ
بِهٖ عِلْمٌ ۡ
وَّاَنَا اَدْعُوْكُمْ
اِلَى
الْعَزِيْزِ
الْغَفَّارِ
تم بلاتے ہو مجھے
کہ میں انکار کروں
اللہ کا
اور میں شریک ٹھہراؤں۔ اس کے ساتھ
جو۔ نہیں ۔ مجھے
اس کا علم
اور میں بلاتا ہوں
طرف
غالب
بخشنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]