🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الدخان
ذُقۡ ۚۙ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡکَرِیۡمُ ﴿۴۹﴾
چکھ، بے شک تو ہی وہ شخص ہے جو بڑا زبردست، بہت باعزت ہے۔[49]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
49۔ (پھر اسے کہا جائے گا کہ اب سزا) چکھ، تو بڑا معزز اور شریف [34] بنا پھرتا تھا۔
[34] جب اہل دوزخ کی یہ گت بنائی جا رہی ہو گی تو اس وقت دوزخ کا فرشتہ ان سے مخاطب ہو کر کہے گا۔ ارے تم تو دنیا میں بڑے معزز اور شریف بنے پھرتے تھے۔ رسولوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ اللہ کے احکام کے مقابلہ میں اکڑ بیٹھے تھے اور سرکشی اور شرارتیں کیا کرتے تھے۔ اور جب تمہیں اس برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا تو رسولوں کا اور اس دن کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ کیا آج بھی تمہیں اس معاملہ میں کچھ شک باقی رہ گیا ہے؟ اس آیت کا روئے سخن دراصل ان معزز سرداران قریش کی طرف ہے جنہیں نبی کے مقابلہ میں معزز سمجھا جاتا تھا جو مظلوم مسلمانوں کو ایک کمتر درجہ کی مخلوق سمجھ کر ان کے ساتھ بیٹھنا بھی گوارا نہ کرتے تھے۔