🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأحقاف
فَلَوۡ لَا نَصَرَہُمُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ قُرۡبَانًا اٰلِـہَۃً ؕ بَلۡ ضَلُّوۡا عَنۡہُمۡ ۚ وَ ذٰلِکَ اِفۡکُہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۸﴾
پھر ان لوگوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی جنھیں انھوں نے قرب حاصل کرنے کے لیے اللہ کے سوا معبود بنایا؟ بلکہ وہ ان سے گم ہو گئے اور یہ ان کا جھوٹ تھا اور جو وہ بہتان باندھتے تھے۔[28]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
28۔ پھر ان ہستیوں نے ان کی کیوں مدد نہ کی۔ جنہیں [40] ان لوگوں نے اللہ کے سوا تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھ کر الٰہ بنا رکھا تھا؟ بلکہ وہ ان سے گم ہو جائیں گی اور یہ نتیجہ ہو گا ان کے جھوٹ کا اور اس بات کا جو جھوٹے عقیدے انہوں نے گھڑ رکھے تھے۔
[40] اہل مکہ کے ارد گرد کسی زمانہ میں ایسی بے شمار بستیاں آباد تھیں۔ جو اب تباہ و برباد ہو چکی تھیں۔ انہیں وہ بچشم خود ملاحظہ کر سکتے تھے اور اگر چاہتے تو ان سے عبرت بھی حاصل کر سکتے تھے۔ ان قوموں کا سب سے بڑا اور مشترکہ جرم یہ تھا کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر کئی ایسے الٰہ بنا رکھے تھے جن کے متعلق ان کا یہ گمان تھا کہ وہ مصیبت کے وقت ہمارے کام آتے ہیں۔ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کرتے ہیں اور یہ اللہ کے ہاں ہماری فریادیں پہنچانے اور ہمیں اللہ کے قریب کر دینے کا ذریعہ ہیں۔ پھر چاہئے تو یہ تھا کہ جب اسی جرم کی پاداش میں ان پر عذاب آیا کہ اس مصیبت میں وہ ان کی مدد کو پہنچتے۔ مگر کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جب اللہ کا عذاب آیا تو ان معبودوں کے شیدائی پرستاروں کو یہ یاد ہی نہ رہا کہ یہی تو اپنے معبودوں کو پکارنے کا وقت ہے۔ اس سے زیادہ مشکل اور کون سا وقت ہو گا۔ اس سے از خود یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ جو افسانے ان لوگوں نے اپنے معبودوں کی دھاک بٹھانے کے لیے تراش رکھے تھے سب جھوٹ ہی جھوٹ تھے۔