🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة القمر
کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا فَاَخَذۡنٰہُمۡ اَخۡذَ عَزِیۡزٍ مُّقۡتَدِرٍ ﴿۴۲﴾
انھوں نے ہماری سب کی سب نشانیوں کو جھٹلادیا تو ہم نے انھیں پکڑا، جیسے اس کی پکڑ ہوتی ہے جو سب پر غالب، بے حد قدرت والا ہو۔[42]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
42۔ انہوں نے ہماری سب نشانیوں کو جھٹلا دیا تو ہم نے انہیں کسی زبردست اور صاحب [29] قدرت کی گرفت کی طرح پکڑ لیا۔
[29] فرعون کی خدائی اور فرعونیوں کا حشر:۔

فرعون بھی اپنے ملک میں خدا بنا بیٹھا تھا۔ سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون علیہما السلام اس کے پاس ایسے واضح معجزات لے کر آئے تھے جن سے انہیں یقین ہو گیا تھا کہ یہ واقعی اللہ کے پیغمبر ہیں۔ مگر وہ اپنی فرمانروائی اور خدائی سے دستبردار ہونے کو قطعاً تیار نہ تھا لہٰذا پیغمبروں کو جھٹلا دیا اور ان پر ایمان لانے کی بجائے ظلم و ستم ڈھانے لگا اور سیدنا موسیٰؑ کو قتل کر دینے کے منصوبے سوچنے لگا۔ اس وقت ہم نے اسے ایسی سزادی جس سے بچ نکلنے کے لیے اس کے پاس کوئی راہ نہ تھی۔ ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو عین سمندر کے درمیان لا کر سمندر کے پانی کو روانی کا حکم دیا۔ اس طرح اسے اس کے لشکروں سمیت سمندر میں غرق کر دیا۔ اس وقت نہ اس کی خدائی کام آئی اور نہ اس کے لشکر۔