🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الحديد
فَالۡیَوۡمَ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡکُمۡ فِدۡیَۃٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ ؕ ہِیَ مَوۡلٰىکُمۡ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۵﴾
سو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے انکار کیا، تمھارا ٹھکانا ہی آگ ہے، وہی تمھاری دوست ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔[15]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
15۔ لہٰذا آج نہ تم سے فدیہ [27] قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا۔ تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے، وہی تمہاری خبرگیری کرنے والی ہے اور یہ بد ترین انجام ہے
[27] جو اللہ کو سرپرست نہ بنائے اس کی سرپرست جہنم ہے:۔

یہ غالباً مومنوں کی منافقوں سے گفتگو کا آخری حصہ ہے کہ جس مال و متاع کی خاطر دنیا میں تم نے منافقت کا رویہ اختیار کیا تھا۔ آج اگر وہ مال و متاع تمہیں مل بھی جائے تو وہ تمہارے کسی کام نہیں آسکتا۔ وہ مال و دولت سارے کا سارا دے کر بھی تم عذاب جہنم سے بچ نہیں سکتے۔ نہ ہم تمہیں اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ ضمناً اس آیت سے دو اور باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ بد ترین انجام کے لحاظ سے منافق اور کافر میں کوئی فرق نہیں۔ منافق بھی حقیقتاً کافر ہی ہوتے ہیں۔ اور دوسری یہ کہ جو شخص اللہ کو سرپرست نہ بنائے جہنم از خود اس کی سرپرست بن جاتی ہے۔