🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الحشر
لَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ جَمِیۡعًا اِلَّا فِیۡ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ ؕ بَاۡسُہُمۡ بَیۡنَہُمۡ شَدِیۡدٌ ؕ تَحۡسَبُہُمۡ جَمِیۡعًا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ شَتّٰی ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿ۚ۱۴﴾
وہ اکٹھے ہو کر تم سے نہیں لڑیں گے مگر قلعہ بند بستیوں میں، یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی آپس میں بہت سخت ہے۔ تو خیال کرے گا کہ وہ اکٹھے ہیں، حالانکہ ان کے دل الگ الگ ہیں،یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے۔[14]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
14۔ یہ اکٹھے ہو کر تم (مسلمانوں) سے جنگ نہیں کریں گے الا یہ کہ قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر (جنگ کریں) ان کی آپس میں شدید مخالفت [19] ہے۔ آپ انہیں متحد سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لیے کہ یہ لوگ [20] بے عقل ہیں
[19] یہود اور منافقین میں جرأت کا فقدان:۔

اس آیت کے مخاطب یہود بھی ہیں اور منافقین بھی۔ دونوں ایک جیسے مکار، دغا باز، وعدے کے جھوٹے اور مفاد پرست ہیں۔ ایسے لوگ بزدل ہوتے ہیں کبھی کھلے میدان میں لڑنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ ہاں ایسی جگہ بیٹھ کر لڑ سکتے ہیں جہاں ان کی جان کو کچھ خطرہ نہ ہو۔ مورچوں میں یا قلعہ بند ہو کر تو یہ تیر و تفنگ کا کھیل کھیل سکتے ہیں مگر سامنے آکر دست بدست جنگ کرنا ان کے بس کا روگ نہیں۔ بھلا جسے ہر وقت اپنی جان بچانے کا دھڑکا لگا رہتا ہو تو وہ مقابلہ کیا کر سکتا ہے؟ کیا یہود کیا منافق اور کیا ان کی ذیلی شاخیں۔

ان کے اتحاد کی بنیاد محض اسلام دشمنی ہے:۔

ان سب کے اتحاد کی بنیاد صرف اسلام دشمنی ہے۔ رہے ان کے اندرونی اختلافات اور باہمی عداوتیں تو وہ شدید ہیں۔ لہٰذا ان کا یہ عارضی اور غیر مستقل اتحاد بھی سخت ناپائیدار ہے۔ جو دوران جنگ عین اتحاد کے موقع پر بھی پارہ پارہ ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ جنگ احزاب کے آخر میں قریشیوں اور یہودیوں کا یہ اختلاف ہی ان کی شکست کا ایک اہم سبب بن گیا تھا۔

[20] یعنی انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اتحاد بھی صرف وہ کام آتا ہے جس کی جڑیں مضبوط ہوں اور خیالات و نظریات میں ہم آہنگی ہو۔ جب تک وہ اس بات کو نہ سمجھیں گے عارضی طور پر اتحاد کر لینے کے باوجود بھی حق کے مقابلہ میں مار ہی کھاتے رہیں گے۔