🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الحشر
کَمَثَلِ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ قَرِیۡبًا ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِہِمۡ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿ۚ۱۵﴾
ان لوگوں کے حال کی طرح جو ان سے پہلے قریب ہی تھے، انھوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔[15]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
15۔ ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے تھوڑی مدت [21] پہلے اپنے کیے کا مزا چکھ چکے ہیں، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
[21] تھوڑی مدت پہلے یہود کے قبیلہ بنو قینقاع کو جس قدر ذلت و خواری سے نکالا گیا وہ یہ یہود بنی نضیر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور اس کی تفصیل پہلے اسی سورۃ کی آیت 2 کے حواشی میں گزر چکی ہے اور کافر تھوڑی مدت پہلے جنگ بدر میں اپنی کرتوتوں کی سزا پا چکے ہیں۔ یہ تو انہیں دنیا میں سزا ملی اور آخرت میں دردناک عذاب تو جوں کا توں باقی ہے۔