تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة التحريم
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ تَوۡبَۃً نَّصُوۡحًا ؕ عَسٰی رَبُّکُمۡ اَنۡ یُّکَفِّرَ عَنۡکُمۡ سَیِّاٰتِکُمۡ وَ یُدۡخِلَکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ ۙ یَوۡمَ لَا یُخۡزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۚ نُوۡرُہُمۡ یَسۡعٰی بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ بِاَیۡمَانِہِمۡ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَتۡمِمۡ لَنَا نُوۡرَنَا وَ اغۡفِرۡ لَنَا ۚ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۸﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف توبہ کرو، خالص توبہ، تمھارا رب قریب ہے کہ تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے اور تمھیں ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، جس دن اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے، رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہا ہو گا، وہ کہہ رہے ہوں گے اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کر اور ہمیں بخش دے، یقینا تو ہر چیز پر خوب قادر ہے۔[8]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
8۔ اے ایمان والو! اللہ کے حضور خالص [16] توبہ کرو کچھ بعید نہیں کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں۔ اس دن اللہ اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا [17] نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور دائیں جانب [18] دوڑ رہا ہو گا (اور) وہ کہہ رہے ہوں گے: ”اے ہمارے پروردگار! ہمارے لیے ہمارا نور [19] پورا کر دے اور ہمیں بخش دے یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے“
[16] توبہ کی شرائط:۔ ﴿نَصُوْحًا﴾ ﴿نصح﴾ بمعنی کسی کی خیر خواہی کرنا خواہ یہ قول سے ہو یا فعل سے اور ﴿نَصُوْحًا﴾ سے مراد ایسی سچی توبہ ہے جس سے اپنے نفس کی خیرخواہی مطلوب ہو۔ اور ایسی توبہ کی چند شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ اپنے کیے پر نادم ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے حضور مغفرت طلب کرے اور آئندہ وہ کام نہ کرنے کا عہد کرے۔ تیسرے یہ کہ یہ عہد محض زبانی یا ریا کاری کی بنا پر نہ ہو بلکہ آئندہ اس عہد کو حتی الامکان نباہنے کی کوشش کرے اور چوتھے یہ کہ اگر اس نے اس گناہ کے کام میں کسی شخص کا حق تلف کیا ہے تو اسے اس کی ادائیگی کرے یا اس سے معاف کرالے۔ اگر وہ حق مال سے تعلق رکھتا ہے تو اصل مظلوم مر چکا ہے تو اس کے وارثوں کو ادا کر دے یا صدقہ کر دے۔ اور اگر وہ حق تلفی قول سے تعلق رکھتی ہے جیسے غیبت یا چغلی وغیرہ تو اس کے حق میں دعائے مغفرت کرتا رہے۔ ﴿وغير ذلك﴾
[17] رسوائی سے مراد عذاب جہنم سے بچا لینا ہے۔ کیونکہ اس دن یہی سب سے بڑی رسوائی ہو گی۔ اس کے بجائے اللہ ایسے لوگوں کو فضل و شرف کے بلند مقامات پر سرفراز فرمائے گا۔
[18] اس نور کی تفصیل پہلے سورۃ حدید کی آیت نمبر 13 کے تحت گزر چکی ہے۔
[19] قیامت کے دن منافقوں کی مومنوں سے التجا کہ ہمیں ساتھ لے چلو:۔
یہ نور اہل ایمان کو اس وقت عطا کیا جائے گا جب میدان محشر میں لوگوں کے اعمال کا فیصلہ ہو چکا ہو گا اور انہیں جنت میں داخلہ کا ٹکٹ یا پروانہ مل چکا ہو گا۔ میدان محشر سے جنت کی راہ میں سخت تاریکی ہو گی، پھر پل صراط کو بھی عبور کرنا ہو گا۔ اہل ایمان اپنے اس عطا کردہ نور کی روشنی میں آگے بڑھتے جائیں گے۔ منافق بھی اس کے ساتھ چل پڑیں گے لیکن ان کا اپنا نور تو ہو گا نہیں یا اگر تھوڑا بہت ہو گا بھی تو بہت جلد بجھ جائے گا۔ انہیں دیکھ کر اہل ایمان کو یہ اندیشہ لاحق ہو گا کہ کہیں ان کا نور بھی راہ میں ہی نہ بجھ جائے۔ لہٰذا وہ اللہ سے دعا کریں گے کہ اے پروردگار! جنت میں پہنچنے تک ہمارا یہ نور برقرار اور بحال رکھنا۔ اور ہم سے جو گناہ یا تقصیرات سرزد ہوئی ہیں وہ معاف فرما دے۔