اس نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھا۔ سو تو ان لوگوں کو اس میں اس طرح (زمین پر) گرے ہوئے دیکھے گا جیسے وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے ہوں۔[7]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
7۔ اللہ تعالیٰ نے اس آندھی کو ان پر متواتر سات راتیں اور آٹھ دن مسلط کیے رکھا۔ آپ (وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہاں لوگ یوں (چاروں شانے) چت گرے پڑے [6] ہیں جیسے وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں
[6] یہ لوگ بڑے مضبوط جسم والے، طاقتور اور طویل القامت تھے۔ جب ان کو ہودؑ نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے: ﴿مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً﴾ (ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟) لیکن جب ہم نے ان پر ہوا کو چھوڑ دیا تو یہ لوگ اس کا بھی مقابلہ نہ کر سکے۔ تندو تیز ہوا نے ان کو یوں چاروں شانے چت گرا دیا کہ طویل القامت ہونے کی وجہ سے ان کے سر گرتے ہی تن سے جدا ہو جاتے تھے۔ اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ کھجوروں کے بے جان اور کھوکھلے تنے پڑے ہوئے ہیں۔