🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الحاقة
لَّا یَاۡکُلُہٗۤ اِلَّا الۡخَاطِـُٔوۡنَ ﴿٪۳۷﴾
جسے گناہ گاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا۔[37]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
37۔ جسے گنہگاروں کے سوا [21] کوئی نہیں کھاتا
[21] اس نے دنیا میں خود غرضی کا رویہ اختیار کیا، نہ کسی کی مدد کی، نہ ہمدردی کی، نہ ہی کبھی اسے ایسا خیال تک آیا تھا۔ لہٰذا آج اسے بھی غم خوار اور ہمدرد میسر نہ آئے گا۔ اور جب وہ بھوک سے بے تاب ہو جائے گا تو اسے اپنے جیسے دوزخیوں کے زخموں کا دھوون دیا جائے گا یہی اس کی خوراک ہو گی اور یہی اس کا مشروب ہو گا۔ اور یہ بات تو واضح ہے کہ زخموں کا دھوون نہ کوئی خوراک ہے اور نہ مشروب ہے۔ مگر ایسے مجرموں کو یہی کچھ کھانا پڑے گا۔ کوئی اور چیز انہیں مہیا نہیں کی جائے گی۔ پھر مجرموں کی بھی کئی اقسام ہیں کچھ دوزخی ایسے ہوں گے جنہیں کھانے کو تھوہر دیا جائے گا اور پینے کو کھولتا ہوا پانی۔