🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الفجر
اِرَمَ ذَاتِ الۡعِمَادِ ۪ۙ﴿۷﴾
( وہ عاد) جو ارم ( قبیلہ کے لوگ) تھے، ستونوں والے۔[7]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
7۔ اونچے ستونوں والے (عاد) ارم [6] کے ساتھ
[6] ذکر قوم عاد:۔

ان شہادتوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قوم عاد کا ذکر کیا۔ قوم عاد کو عاد اولیٰ بھی کہا جاتا ہے اور عاد ارم بھی۔ عاد ارم وہ اس لحاظ سے ہیں کہ ارم بن سام بن نوح کی اولاد تھے اور ذات العماد کی کئی توجیہیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خود بہت بلند و بالا قد و قامت رکھتے تھے۔ دوسری یہ کہ بلند و بالا عمارتیں بنانے کا آغاز انہوں نے ہی کیا تھا۔ تیسری یہ کہ جب وہ سفر کرتے تھے تو اپنے خیمے نصب کرنے کے لیے بہت اونچی اور مضبوط لکڑیاں استعمال کرتے تھے جیسے وہ ستون ہیں۔