اس دن لوگ الگ الگ ہو کر واپس لوٹیں گے، تاکہ انھیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔[6]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
6۔ اس دن لوگ متفرق [5] ہو کر واپس لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے [6] جائیں
[5] اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ سب انسان متفرق اور الگ ہو جائیں گے اور ہر ایک سے انفرادی طور پر اللہ کے ہاں باز پرس ہو گی۔ اور دوسرا یہ کہ جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے ان کے الگ الگ گروہ بن جائیں گے۔ شرابیوں کا گروہ الگ ہو گا، زانیوں کا الگ، چوروں کا الگ، ڈاکوؤں اور لٹیروں کا الگ، غرض ہر انسان اپنے اپنے ہم جنسوں سے مل جائے گا۔
[6] یہاں صرف اعمال کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی سب قسم کے لوگوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں گے اور اس کی صورت وہی ہو گی جو اوپر مذکور ہوئی۔ یعنی ان کے اعمال کی فلمیں ہر ایک کو دکھا دی جائیں گی۔ تاکہ کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہر شخص کا اعمال نامہ اس کے حوالہ کر دیا جائے گا کہ وہ خود اپنے اعمال کو ٹھیک طرح پڑھ لے اور دیکھ بھال کر لے۔