🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الهمزة
کَلَّا لَیُنۡۢبَذَنَّ فِی الۡحُطَمَۃِ ۫﴿ۖ۴﴾
ہرگز نہیں، یقینا وہ ضرور حُطمہ میں پھینکا جائے گا۔[4]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
4۔ ہرگز نہیں وہ یقیناً چکنا چور کر دینے والی میں پھینک دیا [4] جائے گا
[4] ﴿لَيُنْبَذَنَّ﴾ ﴿نَبَذَ﴾ بمعنی کسی چیز کو ردی اور بے کار سمجھتے ہوئے پھینک دینا یا کسی چیز کی پروا نہ کرتے ہوئے اسے پس پشت ڈال دینا اور ﴿حُطَمَةَ﴾ سے مراد دوزخ ہے۔ ﴿حُطَمَ﴾ یعنی توڑنا مروڑنا اور حُطَام توڑی مروڑی ہوئی یا ریزہ ریزہ شدہ چیز کو کہتے ہیں اور یہ لفظ کسی کو روند کر ریزہ ریزہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان دولت کے نشہ میں بد مست لوگوں کو نہایت حقیر اور ذلیل سمجھ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔