🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة المائده
قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِنَّ فِیۡہَا قَوۡمًا جَبَّارِیۡنَ ٭ۖ وَ اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَہَا حَتّٰی یَخۡرُجُوۡا مِنۡہَا ۚ فَاِنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ ﴿۲۲﴾
انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک بہت زبردست قوم ہے اور بے شک ہم ہرگز اس میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ وہ اس سے نکل جائیں، پس اگر وہ اس سے نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہونے والے ہیں۔[22]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
22۔ وہ کہنے لگے: موسیٰ! وہاں تو بڑے زور آور لوگ [53] رہتے ہیں، جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے۔ ہاں اگر وہ نکل جائیں تو ہم داخل ہونے کو تیار ہیں
[53] وفد کی رپورٹ اور جہاد سے انکار:۔

لیکن ان لوگوں نے موسیٰؑ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور جب فلسطین کے علاقہ کا دورہ کر کے واپس آئے، تو اس کی رپورٹ خفیہ طور پر سیدنا موسیٰؑ کو دینے کی بجائے ہر ایک کو وہاں کے حالات بتانا شروع کر دیئے۔ اور وہ رپورٹ یہ تھی کہ فلسطین کا علاقہ واقعی بڑا زرخیز و شاداب ہے۔ وہاں پانی اور دودھ کی نہریں بہتی ہیں لوگوں کی معاشی حالت اچھی ہے لیکن وہ لوگ بڑے طاقتور، زور آور اور قد آور ہیں۔ ہم ان کے مقابلہ میں ٹڈے معلوم ہوتے تھے اور وہ بھی ہمیں ٹڈے ہی سمجھتے تھے۔ لہٰذا ان لوگوں پر فتح حاصل کرنا ہماری بساط سے باہر ہے اور موسیٰؑ سے کہنے لگے کہ ان طاقتور لوگوں کی موجودگی میں ہمارا وہاں داخل ہونا اور پھر مقابلہ کر کے فتح یاب ہونا نا ممکنات سے ہے اور اگر اللہ نے یہ علاقہ ہمارے مقدر میں لکھا ہوا ہے تو وہ کوئی ایسا انتظام کر دے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں تو تب ہی ہم اس میں داخل ہو سکتے ہیں۔