🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الأعراف
وَ لَقَدۡ مَکَّنّٰکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ جَعَلۡنَا لَکُمۡ فِیۡہَا مَعَایِشَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھیں زمین میں ٹھکانا دیا اور ہم نے تمھارے لیے اس میں زندگی کے سامان بنائے، بہت کم تم شکر کرتے ہو۔[10]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
10۔ ہم نے تمہیں زمین میں اختیار دیا [8] اور تمہارے لیے سامان زیست بنایا۔ مگر تم لوگ کم ہی شکر ادا کرتے ہو
[8] یعنی انسان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی بھی ایک کم کر دیا جائے مثلاً ہوا کا وجود ہی ختم ہو جائے یا دھوپ کبھی نہ نکلے تو اس دنیا میں اس کا جینا محال ہو جائے ان احسانات کا بدلہ تو یہ ہونا چاہیے کہ انسان اللہ کے شکر گزار بندے بن جاتے مگر ایسا خیال کم ہی لوگوں کو آتا ہے۔